علم فلکیات - ایک تعارف (پہلا حصہ)

ایک اندھیری رات میں شہر کی روشنیوں سے دور آپ کتنے ستارے دیکھ سکتے ہیں ؟  یہ سوال میں نے بہت سے ایسے لوگوں سے پوچھا جو علم فلکیات (Astronomy)  کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ۔ اُن کا اندازہ دس ہزار سے کئی لاکھ تک تھا ۔ درحقیقت کوئی بھی ایک وقت میں 3 ہزار سے زیادہ ستارے نہیں دیکھ سکتا لاکھوں ستاروں کا دکھائی دینا محض نظر کا دھوکا ہے۔

البتہ ایک چھوٹی سی دوربین کی موجودگی سے کافی فرق پڑ سکتا ہے ۔  نا صرف یہ کہ ستارے زیادہ روشن اور چمکدار نظر آئیں گے بلکہ اُن کی تعداد بھی بڑھ جائے گی ۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے اجرام فلکی بھی منظر عام پر آ جائیں گے جن کو دوربین کے بغیر دیکھنا ناممکن ہے ۔ لیکن آجکل کے مہنگائی کے دور میں دوربین کا حصول کسی بڑی آشائیس سے کم نہیں۔ ایک مناسب سی بینا کولر (Binocular) پچیس ہزار روپے سے کم میں نہیں ملے گی ، اور ایک اچھی دوربین (Telescope) ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی ۔

چنانچہ مناسب یہی ہو گا کہ فی الوقت ہم خود کو  سنء 1609 کا ایسٹرونومر سمجھتے ہوئے آسمانی مشاہدات کا آغاز کریں۔  1609 کا سال ایسٹرونومی کی تاریخ میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ، جب گلیلیو نامی شخص نے پہلی بار اپنی بنائی ہوئی دوربین کا رخ آسمان کی طرف کیا تھا۔

Galileo's Telescope


اس سے پہلے کہ ہم مزید تفصیل میں جایئں ہمیں ایسٹرونومی کی چند بنیادی چیزوں کو سمجھ لینا چاہیے۔ آپ میں سے بہت سے لوگ پیلے ہی ان سے واقف ہونگے لیکن میرے خیال میں دوبارہ پڑھنے اور سمجھنے میں کوئ مضائقہ نہیں۔

اکثر لوگ آج بھی ایسٹرونومی (Astronomy) اور ایسٹرلوجی (Astrology) میں فرق نہیں سمجھتے۔ دراصل یہ دونوں بالکل الگ الگ ہیں۔ ایسٹرونومی کائینات کا علم ہے جبکہ ایسٹرولوجی ، جو ستاروں اور سیاروں کی حرکات سے انسانوں کی قسمت اور مستقبل بتانے کے داویدار ہے ماضی کی بےمقصد اور جھوٹی کہانیاں ہیں جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اس کو محض 'بکواس' کا نام دیا جا سکتاہے ۔ ایسٹرلوجی کے بارے میں آگے اور لکھوں گا ، گو کہ اس موضوع پر کچھ بھی لکھنا اور پڑھنا صرف وقت کا ضیاع ہو گا ۔

Say no to horoscopes


ایسٹرونومی کو سمجھنے میں ایک رکاوٹ لمبے لمبے فاصلے ہیں ۔ زمین سے سورج کا فاصلہ 9,30,00,000 میل ہے۔ بظاہر یہ بہت بڑی دوری ہے لیکن ایک ایسٹرونومر کے لئے اس کی کوئ اہمیت نہیں ہے۔  اللہ تعالی نے کائینات کو بہت وسیع پیمانے پر بنایا ہے ۔ یہاں زمیں تو ایک چھوٹا سا نقطہ ہے ۔

سورج ایک ستارہ ہے ، ہم کو اتنا گرم اور چمکدار اس لئے لگتا ہے کہ یہ ہمارے بہت قریب ہے ۔ رات کو آسمان پر چمکنے والے ستارے بھی دراصل سورج کی طرح ہیں بلکہ کئ تو اس سے بھی زیادہ بڑے اور روشن ہیں ، لیکن بہت دور ہونے کی وجہ سے روشنی کے نقطے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو یہ ایک سیارہ ہے اور سورج کے گرد اپنا ایک چکر 365 دن اور 6 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے۔  زمین کا قطر (Diameter) 8,000 میل ہے  جبکہ سورج کا قطر 860,000 میل ہے ۔  اگر دس لاکھ زمینوں کو سورج کے اندر سمایا جائے تو پھر بھی اس میں کافی جگہ خالی رہ جائے گی۔

Sun and Earth compared


صرف زمین ہی سورج کے گرد نہیں گھوم رہی بلکہ پرانے وقتوں میں پانچ مزید سیاروں کو پہچان لیا گیا تھا۔  اُن کے نام سورج سے دوری پر بلترتیب یہ ہیں : عطارد (Mercury) , زہرہ (Venus) , مریخ (Mars) , مشتری (Jupiter) , زحل (Saturn) .  دوربین کی ایجاد کے بعد تین اور سیارے یورینس (Uranus) , نیپچون (Neptune) اور پلوٹو (Pluto) کی دریافت عمل میں آئ۔ 
سنء 2005 میں ایک اور سیارہ دریافت ہوا جس کا نام ایرس (Eris) رکھا گیا۔ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔


Our Solar System


چاند ہمارا قریبی ساتھی ہے جو صرف 2,39,000 کے فاصلے پر زمین کے گرد اپنے سفر میں گامزن ہے ۔ یہ تمام اجرام فلکی سورج ، چاند اور سیارے مل کر ایک فیملی بناتے ہیں جسے نظام شمسی (Solar System) کہا جاتا ہے ۔ ہمارے لئے چاند اور سورج منفرد ہیں لیکن کائینات میں نظام شمسی کی اہمیت ایک چھوٹے سے گاؤں سے زیادہ نہیں۔


Moon


یہ سمجھنے کے لئے کہ ہمار نظام شمسی کتنا چھوٹا ہے اور تنہا ہے ، ہم ایک ماڈل بناتے ہیں جس میں سورج اور زمین کا فاصلہ جو کہ نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے ، محض ایک انچ فرض کریں گے ۔

Sun and moon at 1 inch


اس سکیل پر چاند کا زمین سے فاصلہ 1/400 انچ ہوگا ۔ پلوٹو جو نظام شمسی کا آخری سیارہ ہے ، صرف 3 فُٹ پر ہو گا۔ اسی سکیل پر سورج کے بعد قریب ترین سیارہ ہم سے 4 میل کے فاصلے پر ہوگا اور بہت سے بڑے ستارے جو ہم کو دوربین کے بغیر بمشکل دکھائ دیتے ہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل کے فاصلے پر ہونگے۔  کائینات بہت بڑی ہے۔  ہم زمین پر رہنے والے خود کو جتنا اہم سمجھتے ہیں اتنے اہم ہیں نہیں ۔
(دوسرا حصہ پڑھئیے)

New Comment