علم فلکیات - ایک تعارف (دوسرا حصہ)

یوں تو سیارے (Planets) آسمان پر ہمیں ستاروں کی طرح ہی نظر آتے ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ ستاروں سے مختلف ہیں۔  چاند کی طرح ان کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہے ، سیاروں کی جمک کی وجہ سورج کی روشنی ہے جسے وہ منعکس (Reflect) کرتے ہیں۔  یہی نہیں تمام سیارے اپنے مداروں میں سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ستاروں کے بیچ اپنی جگہ تبدیل کرنے کے باعث پکڑے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس ستارے  خود آگ اور روشنی کے گولے ہیں ، ان کی سطح پر ہونے والے نیوکلیر ری ایکشنز عربوں کھربوں سال انہیں روشن رکھتے ہیں ۔ ستارے ہمارے سورج کے گرد نہیں گھومتے ، اور گھومیں بھی کیوں وہ تو خود سورج ہیں ۔


سیارے سورج کے گرد


قدیم زمانے میں آسمان پر ہزاروں لاکھوں ستاروں کو  مختلف جھرمٹوں (Constellations) میں تقسم کر دیا گیا تھا ۔ستاروں کی پہجان کا یہ طریقہ آج بھی رائج ہے۔  آپ لوگ ستاروں کے ان  مشہور جھرمٹوں میں سے کچھ سے ضرور واقف ہوں گے۔  'دب اکبر' (Great bear) ان ہی میں سے ایک ہے ۔ یہ جھرمٹ سات ستاروں پر مشتمل ہے اور ہمارے ملک پاکستان سے رات کے کسی بھی پہر شمالی آسمان پر با آسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔  قطبی ستارے (Pole star) کو تلاش کرنے والے لوگ عام طور پر اسی جھرمٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ بظاہر یہ سات ستارے دب اکبر کا حصہ معلوم ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ان کا آپس میں کوئ تعلق نہیں۔  ان میں ہر ستارہ خود ایک دوسرے سے عربوں کھربوں میل کی دوری پر ہے۔


دب اکبر


دوربین کی ایجاد سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ستارے شاید بہت بڑے گلوب یا دائرے کے اندر کی طرف چسپاں ہیں اور ساکت ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔  تمام ستارے ہم سے الگ الگ فاصلوں پر موجود ہیں اور مختلف سمتوں میں چل بھی رہے ہیں ۔ یہی حال دب کبر کے ان سات ستاروں کا بھی ہے ۔ ستاروں کی اس حرکت کو پراپر موشن (Proper motion) کا نام دیا گیا ہے ۔ پراپر موشن کی وجہ سے کسی بھی جھرمٹ کی شکل وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔  چنانچہ دب اکبر کی موجودہ شکل آج سے کئ  ہزار سال بعد تبدیل ہو جائے گی ۔  لیکن عام حالات میں کوئ اپنئ پوری زندگی میں اسے محسوس نہیں کر سکتا ، بلکہ ایسی کئ سو زندگیوں میں بھی نہیں۔

اس کی وجہ کو سمجھنا بلکل مشکل نہیں۔ کوئ بھی چیز جو ہم سے بہت دور ہو ہمیں ساکت نظر آتی ہے چاہے وہ جتنی بھی تیز رفتاری سے حرکت کیوں نہ کر رہی ہو۔  مثال کے طور پر درختوں کے اوپر اڑتا ہوا پرندہ ہمیں بہت تیز چلتا ہوا دکھائ دیتا ہے ، اس کے برعکس ایک ہوائ جہاز جو کہیں زیادہ تیز رفتاری سے اڑتا ہے ہمیں دور ہونے کی وجہ سے بہت آہستہ جلتا ہوا نظر آتا ہے ۔  آجکل کے جدید دور میں حساس سائنسی آلات کی مدد سے ستاروں کی پراپر موشن کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے ، لیکن جہاں تک ہمارے مشایدات کا تعلق ہے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ ستاروں کے جھرمٹ ہمیشہ سے ایسے تھے اور ایسے ہی رہیں گے۔

پراپر موشن


ستاروں کا گروپ (Star system) جس میں ہم اور ہمارا نظام شمسی رہتے ہیں کہکشاں (Galaxy) کہلاتا ہے ۔  ہماری کہکشاں کا نام 'ملکی وے' (Milky way) ہے ۔  اس میں اربوں کھربوں ستارے ہیں جن میں ہمارا سورج شامل ہے ۔ ممکن ہے ان میں بہت سے ستارے ایسے بھی ہوں جن کے اپنے سیارے (Planets) ہوں بلکل زمین کی طرح ، لیکن فی الحال یہ جاننے کا کوئ براہ راست طریقہ نہیں ہے ۔ ابھی تک اتنی طاقتور دوربین نہیں بنی جو ان کو دکھا سکے۔  ہمیں سورج کے علاوہ کوئ بھی ستارہ ایک نقطہ سے بڑا دکھائ نہیں دیتا۔  ان حالات میں ایسے سیاروں کو دیکھنا جو محض اپنے ستاروں کی روشنی سے چمکتے ہوں بلکل ممکن نہیں۔  البتہ دوسرے طریقے سے معلوم کیا گیا ہے کہ ستاروں کے گرد سیاروں کا ہونا عام سی بات ہے ۔

ہماری گیلکسی


اب جیسے نظام شمسی کی حیثیت ہماری کہکشاں میں ایک گاؤں سے زیادہ نہیں ہے ، بلکل اسی طرح ہماری کہکشاں کائنات کا بہت چھوٹا حصہ ہے ۔  خلا کی گہرائیوں میں اور بہت سی کہکشائیں (Galaxies) ہیں اور ہر ایک کے پاس اربوں ستاروں کا اپنا کوٹہ موجود ہے ، لیکن یہ کہکشائیں اتنی دور ہیں کہ دوربین کی مدد سے بھی روشنی کے دھبے کی مانند نظر آتی ہیں۔ ہمارے آسمان پر ایک کہکشاں ایسی ہے جسے دوربین کی مدد کے بغیر بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔  اس کا نام ایڈرومیڈا گلیکسی  (Andromeda galaxy) ہے۔  نظام شمسی سے اس کا فاصلہ 120,000,000,000,000 میل ہے ۔ ہمارے ماڈل میں اس کا فاصلہ بیس لاکھ میل سے بھی زیادہ ہوگا۔ (دیکھیئے پہلا حصہ)

اینڈرومیڈا گیلکسی


یقینا" یہاں یہ بات واضح ہو گئ ہو گی کے اتنے بڑے فاصلوں کو سمجھنا اور ہضم کرنا آسان نہیں۔  اسی لئے  کائنات میں فاصلوں کو نوری سال (Light year) سے ناپا جاتا ہے ۔  یہ وقت ناپنے کا نہیں بلکہ فاصلہ ناپنے کا پیمانہ ہے ۔  اس کی بنیاد روشنی کی رفتار ہے جو ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار (1,86,000) میل کا فاصلہ طے کرتی ہے ۔  اس رفتار سے سفر کرتے ہوئے جو فاصلہ ایک سال میں طے ہو گا وہ نوری سال کا فاصلہ کہلائے گا۔  یہ تقریبا"  6,000,000,000,000 میل ہے۔  ہمارے سورج کے قریب ترین ستارہ ساڑھے 4 نوری سال پر ہے ۔ انیڈرومیڈ گلیکسی ہم سے 22 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے ۔  یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم اس کو دیکھ رہے ہوں گے تو وہ ایسی نظر آئے گی جیسے وہ 22 لاکھ سال پہلے ہو گی چنانچہ کائنات کا آج کا مشاہدہ کافی پرانے وقتوں کا ہو گا۔  اس عمل کو ' لُک بیک' (Look back time) کہتے ہیں اور اس کے بارے میں آگے اور لکھوں گا۔  البتہ ہمارے نظام شمسی کے مشاہدے میں وقت کا فرق زیادہ نہیں ہوگا۔  چاند فاصلہ صرف سوا سیکنڈ ہوگا اور سورج کا ساڑھے آٹھ منٹ۔ 

لک بیک ٹائم


چلیں اب آگے جانے سے پہلے جو ہم  نے اب تک سیکھا ہے اُسے ذہن نشیں کر لیتے ہیں:-

زمین ایک سیارہ (Planet) ہے جو سورج کے گرد گھوم رہا ہے , اس کے علاوہ 9 اور سیارے ہیں جو زمین سے چھوٹے اور بڑے ہیں سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔  سیارے سورج سے روشنی اور جمک حاصل کرتے ہیں جبکہ سورج اپنی روشنی سے چمکتا ہے ۔

چاند زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اور ہمارا قریب ترین پڑوسی ہے ۔ باقی سیاروں کی طرح یہ بھی سورج کی روشنی سے روشن ہے ۔

ہمار نظام شمسی سورج ، سیاروں اور ان کے چاندوں پر مشتمل ہے۔ کائنات میں یہ ہمارا گھر ہے اور ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔

سورج ایک عام سا ستارہ (Star) ہے اور ہمیں اتنا روشن اس لئے نظر آتا ہے کہ یہ ہمارے بہت نزدیک ہے ۔

دوسرے ستارے بھی سورج کی طرح ہیں وہ سورج کے گرد نہیں گھومتے بلکہ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور ہیں۔  وہ ہمیں ایک جگہ ٹہرے ہوئے نظر آتے ہیں اس لئے نہیں کہ وہ واقعی ساکت ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ ہم سے بہت دور ہیں۔

ستاروں کے گروپ یا مجموعے کو کہکشاں کہتے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی ایک ایسی ہی کہکشاں میں موجود ہے ۔  اسی کہکشاں مین سورج کے بعد ہم سے نزدیک ترین ستارہ ساڑھے 4 نوری کے فاصلے پر ہے ۔ 

اور کہکشائیں بھی ہیں لیکن اتنی دور کہ ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں اربوں کھربوں سال لگتے ہیں۔  دوربین کی مدد کے بغیر صرف ایک ہی کہکشاں دیکھی جا سکتی ہے جس کا نام انیڈرمیڈا گلیکسی ہے ۔

  یہ تو ہو گئیں بنیادی باتیں ، اب آگے کچھ بھی مشکل نہیں ، ضرور پڑھیئے اگلے حصے میں ۔







New Comment