محبتیں

معلوم نہیں رات کے کس پہر موبائل کی مسیج ٹون سے میری آنکھ کھل گئ۔  رات کو میں اپنا فون صِرف بہت ضروری مسیجز یا کالز کے لئے کھلا رکھتا تھا۔  نیند سے بوجھل میں نے فون اُٹھایا اور بٹن دبا کر مسیج پڑھا۔  لکھا تھا ، 'سنو تم میرے ساتھ ایس ایم ایس کھیلو گے ؟'  میں نے یہ بھی جاننےکی کوشش نہیں کی کہ میسج کس نے بھیجا تھا ، میسج ڈیلیٹ کیا ، فون دوبارہ سائڈ پر رکھ دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ ابھی بمشکل آنکھیں بند ہی کی تھیں میسج ٹون کی آواز پھر آئی۔  'ہیلو ، سنو تم میرے ساتھ ایس ایم ایس کھیلو گے؟ ' فون پر دوبارہ یہی میسج تھا۔  کون بدبخت رات کے اس پہر ایس ایم ایس کھیلنے کا خواہشمند ہے ، میں نے اپنے آپ سے کہا۔  ایک بار پھر میسج ریپلائ کئے بغیر ڈیلیٹ کر دیا ۔

میں ایس ایم ایس کا شوقین نہیں تھا کھبی کھبار ہی کرتا تھا۔  اُن لوگوں کی طرح نہیں جو ہر کسی کو وقت بے وقت ایس ایم ایس کریں اور اسے کھیل بنا لیں۔  میرے امی پاپا جو مجھ سے دور رہتے تھے اُنہوں نے ہی مجھے فون دلایا تھا ، وہ کہتے تھے یہ بڑی کار آمد چیز ہے ۔  ہم جب چاہیں تم تک پہنچ سکتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ میں فون بند کر دوں لیکن پھر خیال آیا کہ امی کا فون زیادہ تر رات کو ہی آتا ہے ۔  وہ میری خیریت کے لئے کسی وقت بھی فون کر سکتی ہیں ۔  فون بند نہیں کیا ۔

ایک بار پھر جیسے ہی آنکھیں بند کی اور خوابوں کی دنیا میں جانے ہی والا تھا میسج ٹون بجی ۔ وہی نمبر ، اتنی ہمت؟  ' پلیز میرے اِس میسج کا جواب ضرور دینا ۔ میرے لئے فرشتہ بن کر مجھے تنہائ کے اس صحرا سے بچا لو ' ۔  پتا نہیں کیوں اس میسج کا مجھ پر اثر ہوا ۔ میں اُٹھ بیٹھا اور فون کے بٹن دبانے لگا ، مجھ لگا کہ میسج کا جواب لکھ رہا تھا ۔
' میں فرشتہ نہیں ہوں جو تمہیں بچاؤں اور میں تو سُپر مین بھی نہیں ہوں ، میں ایک عام سا انسان ہوں جسے تم رات کے اس پہر جگا رہے ہو ، کیا میں تم کو جانتا ہوں ؟ '

چند ہی لمحوں میں جواب آیا ، ' نہیں تم اِس تنہا روح کو نہیں جانتے ، اور نہ ہی وہ تمہیں جانتی ہے لیکن تمہاری دوست بننا چاہتی ہے ، میں سُنبل ہوں اور تم؟ ' ۔  ' تم مجھے مون کہہ سکتی ہو ، میرا نمبر کہاں سے ملا تمہیں ؟ ' میں نے اُس سے پوچھا ۔ ' ہائی مون تم سے مل کر خوشی ہوئی ، بس اپنے نمبر کے ہندسوں کو آگے پیچھے کیا تھا ' ، اس نے جواب دیا ۔ شاید موبائل پر میں کسی سے پہلے اور آخری بار مِلا تھا ۔  اُس رات ہم ایک دوسرے کو میسجز کرتے رہے اور ایک دوسرے کو جانتے رہے ۔ جب اُس نے خدا حافظ کہا تو صبح کے چھ بج رہے تھے ۔  مجھے کالج جانا تھا۔

اور اس طرح یہ سب شروع ہوا ۔ اب کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جب اُس کے انمول اور پیار بھرے میسجز نہ آئے ہوں ، اور اب تو مجھے بھی ایس ایم ایس سے پیار ہو چلا تھا ، ہر میسج ٹون پر بیقرار ہو جاتا اور خواہش کرتا کہ اُسی کا ہو ۔ سُنبل نے مجھے ایک حسین تحفہ دیا تھا ، میرے اندر چھپے ہوئے ایک رومینٹک انسان کو جگا دیا تھا ۔ اگرچہ یہ رومانس ابھی صرف ایس ایم ایس میسجنگ تک ہی محدود تھا لیکن میں اسے اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کر سکتا تھا ۔

ایک بار سُنبل نے مجھے لکھا ، ' تم ہیمشہ مجھے دوست بنا کر رکھنا اور میں تمہیں اپنے دل میں چھپا کر رکھوں گی ، اس طرح کہ کوئ تمہیں مجھ سے چھین نہ سکے '۔
میں نے اُسے جواب دیا ، ' زندگی میں سچا دوست شازو ناظر ہی ملتا ہے اگر تمہیں ملے تو تم بھی اُسے کبھی نہ چھوڑنا وہ ایک ایسا تحفہ ہے جسے زندگی نے تمہیں دیا ہے اور اس کی قیمت صرف یہی ہے کہ تم اُسے تھامے رہو '۔

اُس نے لکھا ، ' ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ اہمیت دینا جن کا پیار تمہاری زندگی کو چھو  لے پتا نہیں کب انہیں تمہاری زندگی سے نکلنا پڑے اور پھر وہ کبھی واپس نہ لوٹیں '۔
وہ مجھ سے دور ہو جائے اب میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ، میں اُس کے میسجز کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتا تھا ۔ میں سنبل کا عادی ہو چکا تھا حالانکہ اُس سے مِلا تک نہیں تھا ۔ وہ میری روح پر قابض ہو چکی تھی ۔

میں نے اُسے جواب دیا ، ' تم میرے پاس نہ آنا اگر مجھ سے دور جانے کا ارادہ ہو ، مجھے چُھونا نہیں اگر مجھے رُلانے کا ارادہ ہو ، مجھ سے پیار نہ کرنا اگر مجھے چھوڑنے کا ارادہ ہو '۔ مجھے خود پتا نہیں تھا یہ میسج میں نے اُسے کیوں بھیجا تھا لیکن اتنا یقین ضرور تھا کہ اس کا ایک ایک لفظ میرے دل کی ترجمانی کر رہا تھا ۔ میں جانتا تھا اب وہ میرے دل میں رہتی تھی ۔ 

ایک بار میں  نے اُسے کال کر دی ۔ اُس کی آواز سن  کر جیسے مجھ پر نشہ طاری ہو گیا ، بہت ہی نازک لیکن فاتحانہ ، اُس کے ایک ایک لفظ سے محبت اور مانوسیت ٹپک رہی تھی ۔  لیکن اُس کی باتوں میں کچھ ایسی پوشیدگی تھی جسے میں سمجھ نہ سکا ۔ ہم  نے چند منٹ ہی بات کی ۔  فون بند کرنے سے پہلے اُس  نے مجھ سے کہا ، ' اب مجھے کال نہیں کرنا ، ہم دونوں ایس ایم ایس پر ہی مِلا کریں گے ' ۔  لیکن اُس کی آواز میرے دل و دماغ میں بس گئ تھی ۔ میں سنبل کی آواز پھر سننا چاہتا تھا ۔ میں نے کئی بار اُسے کال کی مگر اُس نے کبھی فون نہیں اُٹھایا ۔  وہ صرف میسجز کرتی رہی جنہیں اب میں بہت حفاظت سے اپنی ڈائری میں لکھنے اور محفوظ کرنے لگا تھا ۔ اُس کے تمام میسجز شاندار ہوتے تھے ، وہ انہیں اپنے دل کی گہرائیوں سے لکھتی تھی اور وہ میرا دل چیر کر ہمیشہ کے لیے وہاں گھر بنا لیتے تھے ۔
دسمبر کی ایک سرد رات کو سنبل  نے یہ میسج مجھے بھیجا ، ' بظاہر تو ہم میلوں دور ہیں لیکن تم ہمیشہ میرے دل میں رہتے ہو ، میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو تم میرے سامنے ہوتے ہو ، اگر میں تم سے کبھی بھی نہ ملوں تب بھی ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی '۔ یہ پڑھ کر میں اتنا خوش ہوا کہ میرا اللہ ہی جانتا ہے ۔  وہ ٹھیک کہتی تھی ، ہم کبھی نہیں ملے تھے لیکن ایک دوسرے کے لئے جو احساس ہم دونوں کے دلوں میں تھا وہ ہمارے تعلق کا گواہ تھا ۔ 

میں  نے اُسے لکھا ، ' اِس طرح چھپ کر پیار کرتے رہنا میرے لئے بہت مشکل ہے ، تمہیں جلد ہی مجھ سے ملنا پڑے گا ۔  اس اُمید پر کہ تم بھی مجھ سے اِسی طرح ملنے کے لئے بے قرار ہو گی میں بےچینی سے اُس وقت کا انتطار کر رہا ہوں ۔  
جواب میں اُس نے لکھا ، ' میری خواہش ہے کہ میں تمہیں بتاؤں کہ تم میرے لئے کیا ہو ، لیکن میں کچھ کہنے سے ڈرتی ہوں ، دل دُکھانے سے ڈرتی ہوں ، میں اُمید کرتی ہوں کہ تم میرا انتظار کرو گے اور مجھے چاہنے سے تھک نہیں جاؤ گے '۔

میں نے جواب دیا ، ' تم مجھے قسمت سے ملی ہو اور یہ میری قسمت ہی بتائے گی کہ تمہارے بغیر اب میں کیسے رہوں گا ۔ قسمت کے نام پر میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا ، اور سچ صرف یہی ہے کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ' ۔

میں نے جب بھی اُس سے پوچھا کہ ہم کب ملیں گے تو اُس نے ہمیشہ یہی کہا ، ' بہت جلد میرے چاند بہت جلد '۔ اُسے نہ دیکھے ہوئے بھی ہماری محبت پروان چڑھتی رہی اور مضبوط سے مضبوط تر ہو گئ ۔ اور مجھے یقین تھا اُس کا بھی یہی حال ہوگا ۔ ہم دونوں کے پیار بھرے میسجز چلتے رہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتے گئے ۔ ہماری سوچ پختہ ہوتی رہی کہ ایک دن ہم دونوں ضرور ملیں گے۔ جب نظریں نظروں سے ملیں گی ، اور دل سے دل ۔

عید سے کچھ دن پہلے سنبل  نے مجھے میسجز کرنا بند کر دئیے ۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید اُس کے پاس بیلینس نہیں ہو گا لیکن پھر سوچا بات کچھ اور ہو سکتی ہے ۔ میں بہت پریشان رہنے لگا ، میرا دل گھبرانے لگا ۔ میں نے اُسے کال کی مگر اُس نے فون نہیں اُٹھایا ، میں پھر بھی اُسے میسج بھیجتا رہا ۔
پھر اچانک عید سے صرف تین دن پہلے میں نے اپنے فون کی میسج ٹون سنی ۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ، فون اُٹھایا ، میسج اُسی کا تھا ۔ لکھا تھا ، ' کبھی کبھی ہمیں نا چاہتے ہوئے کسی ایسے کو خدا حافظ کہنا پڑتا ہےجس سے ہم بہت پیار کرتے ہیں  ۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اب ہم اُن سے پیار نہیں کرتے ، خدا حافظ کہنا تو دراصل بہت دکھ اور تکلیف کے ساتھ آئی لَو یُو کہنے کے  مُترادف ہے ۔

میں سکتے میں آ گیا ۔ میری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی ۔ ایسی بات کا کیا مطلب تھا ؟ یہ سب جاننے کے لئے میں نے اُسے کئ ایس ایم ایس کئے مگر کوئ جواب نہیں آیا ۔  اُسے کال کی مگر اُس نے فون نہیں اُٹھایا ۔ زندگی میں پہلی بار میں نے خود کو اتنا بے بس اور مایوس محسوس کیا ۔ ایسا لگا کہ میں اندر سے خالی ہو چکا ہوں ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔  میں سنبل کو کھونا نہیں جاہتا تھا ، اُس نے مجھے پیار کرنا سکھایا تھا ۔ میں اُس کے ساتھ ہمیشہ رہنا جاہتا تھا ۔

اگلے روز بھی میری زندگی اس بڑے خلا کا شکار رہی ، سنبل کا کوئ ایس ایم ایس نہیں آیا ۔ ایسا لگتا تھا وہ میری جان نکال کر لے گئ تھی ۔ میں اُسے اور اٗس کے میسجز کو بہت مِس کر رہا تھا ، اُس میسج ٹون کو جو سنبل کا پیغام مجھ تک پہنچاتی تھی ۔ اب میرے چاروں طرف ویرانی تھی ۔ ایسی ویرانی جسے صرف میں ہی محسوس کر سکتا تھا ۔

عید سے ایک دن پہلے میسج ٹون بجی ۔ یہ وہی تھی ۔ لکھا تھا ، ' آج صبح دس بجے مجھ سے ملنےکیفے میں آؤ ۔  اُس کا یہ میسج میں با آواز بلند پڑھا تا کہ مجھے لگے کہ میں ٹھیک ٹھیک پڑھ ریا تھا ۔ اُف خدایا میں خوشی سے ناچنے لگا ۔ ابھی آٹھ بجے تھے ۔ میں نے جلدی جلدی تیاری شروع کر دی اور وقت سے پہلے ہی اُس مال میں پہنچ گیا جہاں وہ کیفے تھا ۔

وہاں یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ وہ پہلے سے ہی موجود تھی اور میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی ۔ وہ بہت خوبصورت تھی ۔ اُس کی جھیل سی گہری  آنکھیں ہزاروں باتیں کہہ رہی تھیں ،  اُس کے گلاب کی پنکھڑیوں سے نازک ہونٹ ، لمبی گھنیری کالی زلفیں ، سرخ رخسار ، اُس کی ہر چیز بے انتہا خوبصورت تھی ۔ اُس کی آنکھوں سے پیار کی مہربانیاں چھلک رہی تھیں ، لیکن ساتھ ہی ایک عجیب سا احساس ، جیسے وہ بہت غمزدہ ہو ۔
' ہائ مون ' ، وہ آہستہ سے بولی ' آؤ بیٹھو '۔  اُس کی آواز سننے کے لئے میں ایک عرصے سے ترس رہا تھا ، ' مجھے تم سے ملنے کی بہت آرزو تھی سنبل ' ، میں نے کہا ، اور اُسے گلاب کا گلدستہ دیتے ہوئے قریبی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ' شکریہ مون ' ، وہ مسکرائ ۔ گلاب کے پھولوں کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئ ، مجھے پتا تھا اُسے پنک گلاب بہت پسند تھے ۔  ' اس میں شکریہ کی کیا بات ہے تم تو میرا پیار ہو سنبل '، میں نے کہا ۔  ' لیکن مون میں اب یہاں رک نہیں سکتی ' وہ بولی ۔ اُس کی آواز غمگین تھی یا شاید اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ 'مجھے فورا" جانا ہے '۔
' لیکن سنبل ہم تو ابھی ملے ہیں کیا ہم کچھ دیر باتیں نہیں کر سکتے ' میں نے التجا کی ۔ نہیں مون مجھے جانا ہو گا ۔ میں صرف تم سے ملنا جاہتی تھی اور تمہارے اُس قیمتی وقت کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی جو تم نے مجھے دیا ، میں تہمیں کبھی نہیں بھول سکتی ، تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گے '۔ اُس نے یہ سب بمشکل کہا ۔
وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ، اُس کی کھوئ کھوئ آنکھوں میں اُداسی کی جھلک تھی ۔ اُس کی آواز میں ایک انجانا دکھ اور غم تھا ، کچھ تھا جو وہ مجھ سے چُھپا رہی تھی 
وہ کھڑی ہو گئ اور بہت پیار سے مسکرائ ۔ ' کل صبح تم مجھ سے ملنے آنا ' ، اُس نے کہا اور مجھے ایک کاغذ دیا جسے میں پڑھنے لگا اور جب نظریں اُٹھائیں تو وہ جا چکی تھی ۔ کاغذ پر سنبل کے گھر کا پتا تھا ۔

اگلے روز عید کا دن تھا ۔ یہ کوئ عام عید ہوتی تو شاید میں اپنے گھر پر ہوتا لیکن میں نے فون پر امی کو سب کچھ بتا دیا تھا اور انہوں نے مجھے عید کے روز یہیں رکنے کی اجازت دے دی تھی ۔ میں صبح جلدی اُٹھا ، تیار ہوا ۔ سنبل میرے دل و دماغ پہ چھائ ہوئ تھی ۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی میں پھولوں کی شاپ پر گیا اور بہت سارے پنک گلاب لئے اپنی سنبل کے لئے ، اُسے بہت پسند تھے ۔
سنبل کا گھر شہر کے بہترین علاقے میں تھا اور بہت بڑا اور کشادہ تھا ۔ وہاں پہنچ کر میں نے گارڈ کو اپنے بارے میں بتایا اور کہا کہ میں سنبل سے ملنے آیا ہوں ۔ گارڈ نے مجھے بہت حیرانگی دیکھا اور انتظار کا کہہ کر گھر کے مالک کو بلانے چلا گیا ۔ گارڈ کو اندر جاتا ہوا دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ گھر میں ہر طرف روشنیاں جگمگا رہی تھیں ۔

ایک خاتون باہر آئیں جن کے چہرے پر غمگین مسکراہٹ تھی ۔ ' ہائ ، میرا نام مریم ہے ، میں سنبل کی ماں ہوں ، مون تم اندر آ جاؤ ' وہ آہستہ سے بولی ۔ جب ہم ایک بڑے حال میں داخل ہو رہے تھے تو مریم  نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے کیسے جانتی ہے ، ' سنبل نے ہمیں تمہارے بارے میں سب کچھ بتایا تھا ' ، وہ کہہ رہی تھی ، لیکن شاید میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ، میری نظریں تو اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں پر تھیں جو ٹپ ٹپ اُس کی آنکھوں سے گر رہے تھے ۔ جب ہم ہال کے وسعت میں پہنچےتو ایک طرف بہت سے لوگوں کو جمع دیکھا ۔ شاید کوئ رشتہ دار چل بسا تھا ، وہیں ایک مردہ جسم بھی موجود تھا ۔ میرا دل بہت گھبرا رہا تھا ، مجھے ڈر لگ رہا تھا ۔ میں نے مریم سے پوچھا ' سنبل کہاں ہے ؟ '۔

مریم نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس پلنگ کی طرف لے گئ جس کے گرد پنک رنگ کے گلاب کے پھولوں ڈھیر لگا ہوا تھا ، چاروں طرف پنک گلاب ۔۔۔۔۔

جب میں نے آگے بڑھ کر پلنگ پر لیٹے ہوئے انسان کو دیکھا تو میرا دل جیسے دھڑکنا بند ہو گیا ۔ اُف ، میرے پاس کچھ بھی کہنے کے لئے لفظ نہیں تھے ۔ یہ وہی خوبصورت لڑکی تھی جس سے میں ملا تھا ۔ ایک شخص میرے قریب آیا اور مجھ سے مخاطب ہوا ۔ میں سمجھ گیا تھا یہ سنبل کے والد تھے ، ' ہمیں بہت خوشی ہوئ کہ تم یہاں آئے ہو مون ، سنبل ہر وقت تمہاری ہی باتیں کیا کرتی تھی ۔  اُس نے تو خواہش کی ہے کہ اس کا موبائل فون بھی اُس کے ساتھ دفن کیا جائے ' ۔

مجھے کچھ سنائ نہیں دے رہا تھا ، میں بہرہ ہو چکا تھا ۔ ' لیکن یہ سب کیسے ہو گیا ہم دونوں کل ہی تو ملے تھے ، وہ بلکل ٹھیک تھی ، ہنس رہی تھی ' میں آہستہ سے بولا ۔
' ایسا نہیں ہو سکتا مون ، اسے تو مرے ہوئے تین دن ہو چکے ہیں ۔ یہ بیچاری تو بچپن سے ہی دل کی بیماری میں مبتلا تھی ' ۔ اُس کے باپ نے بتایا ۔  ' لیکن ' ۔۔۔۔۔
اِس سے آگے میں کچھ نہ کہہ سکا ۔ اپنی جیب میں اُس کاغذ کا لمس محسوس کر رہا تھا جو کل ہی سنبل نے مجھے دیا تھا ۔ ' سنبل نے ہم سے کہا تھا کہ مون کو کچھ نہ بتانا وہ خود یہاں آئے گا اور دیکھو تم آ گئے ہو '، اُس کی ماں نے روتے ہوئے کہا ۔

درد اور شدت غم سے میرا دل رک گیا ، مجھے لگا میں بھی چند لمحوں میں مر جاؤں گا اور اپنی سنبل کے پاس چلا جاؤں گا ۔ میں اُس کے سرہانے بیٹھ کر آنسوں بہانے لگا ۔ میں نے محسوس کیا جیسے اُس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرے کانوں میں وہی مدھر اور فرشتہ صفت آواز گونجی ، ' نہیں مون تم بلکل نہ رو ، تم تو میرے دل میں ہو اور ہمیشہ رہو گے ' ۔ میں بدستور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا اور اس کی تصویر اپنے دل میں اُتار ریا تھا ۔ وہ تصویر جو ساری عمر اب میرے دل میں رہے گی ۔

سُنبل کو سپرد خاک کرنے کے بعد میں گھر آ گیا اور گھنٹوں روتا رہا ۔ معلوم نہیں کب بستر پر گر گیا ۔ رات کے کسی پہر جب مجھے ہوش آیا تو ایک بار پھر تمام واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے ۔ مجھے یاد آیا کہ اُس کا موبائل ۔۔۔۔۔  
میں نے اپنا فون اُٹھایا اور لکھنا شروع کیا ۔ ' تم نے مجھے خیال کرنا سکھایا ، تم  نے مجھے مہربان ہونا سکھایا ، تم نے مجھے کسی کو پسند کرنا سکھایا ، تم  نے مجھے پیار کرنا سکھایا لیکن تم  نے مجھے ایک بات نہیں سکھائ جس کا مجھے بہت افسوس ہے ، تم  نے مجھے یہ نہیں سکھایا کہ اگر کوئ اپنا ہاتھ چُھڑا کر تم سے دور جانے لگے تو کیا کیا جائے ۔ سنبل میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ، آئ لو یو سو مچ '۔

ایس ایم ایس تو میں نے بھیج دیا تھا لیکن میں جانتا تھا کہ وہ اب فون اٹھانے کے قابل کہاں ہو گی ۔ مگر میرا دل کہہ رہا تھا کہ یہ میسج اُسے ضرور مل گیا ہو گا ۔ مجھے اُس کی طرف سے کسی جواب کی امید نہیں تھی ۔ 
 
اچانک فون کی مسیج ٹون بجی ۔۔۔۔ میں سر سے پاؤں تک لرز گیا ۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل اُٹھایا ، بھیجنے والے کا نمبر فون کی سکرین پر موجود نہیں تھا لیکن مسیج پڑھ کر میرے آنسو میرے گال سے بہتے ہوئے زمین پر گرنے لگے ۔ ' میرا ہاتھ تم سے چھوٹ گیا ہے تو کیا ہوا ، تم کبھی اللہ کا ہاتھ نہ چھوڑنا ، ہو سکتا ہے دوسرے ہاتھ میں اللہ نے اُسے تھاما ہوا ہو جسے تم پیار کرتے ہو اور وہ ایک بار پھر اُس کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دے سکتا ہے ' ۔ 
' میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتا تمہاری خاطر اللہ کا ہاتھ کبھی نہ چھوڑوں گا ' میں نے بھیجا ۔ جواب میں ہنستی ہو سمائیلی کے ساتھ لکھا تھا ، ' شکریہ ، اب جواب نہ دے سکوں گی مجھے ایس ایم ایس نہیں کرنا '۔

اس کے بعد میں نے جتنی بار میسج بھیجنے کی کوشش کی یہی جواب آیا کہ ' دِس نمبر از ناٹ اِن یُوز ' ۔۔۔  میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ مجھے یاد آیا کہ مجھے الصبح پہلی بس پکڑنی تھی ۔ امی کا فون کسی لمحے بھی آ سکتا تھا ۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔

بس تیزی سے اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھی ۔ عید کا دوسرا دن ہونے کے باعث بس میں زیادہ مسافر نہیں تھے ۔ میرے برابر والی سیٹس بھی خالی تھیں ۔ جب ہم سنبل کے شہر سے نکل کر ہائیوے کی طرف بڑھ رہے تھے تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔ میں دل ہی دل میں اسے الوداع کہہ رہا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ سنبل نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا ، مجھے سب باتوں سے آگاہ کیوں نہیں کیا تھا ؟  
میں سفر کے دوران کبھی نہیں سو پاتا تھا ۔ چاہے وہ جہاز کا سفر ہو یا ٹرین کا یا پھر بس کا ، لیکن آج حیرت انگیز طور پر نجانے کب میری آنکھ لگ گئ ۔

میں نے دیکھا کہ سنبل اُسی کیفے میں میرے ساتھ کھڑی تھی جہاں میں اُس سے پہلی بار ملا تھا ۔ وہی جاذب نظر چہرہ اور وہی دلفریب مسکراہٹ ۔میرا دیا ہوا پنک گلاب کا گلدستہ ابھی تک اُس کے ہاتھ میں تھا ۔ ' سنبل ، تم کہاں جلی گئ تھی ' ، میں نے بیقرار ہو کر پوچھا ۔ ' کہیں نہیں مون ، میں تو یہی ہوں تمہارے ساتھ ' ، وہ مسکرا کر بولی ۔  وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی جیسے مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہو ، یا پھر کچھ کہنا چاہتی ہو ۔ اُس کے چہرے پر اب کسی دکھ و غم کے آثار نہیں تھے ۔ ' تم مجھے کبھی بےوفا نہیں سمجھنا اور نا ہی کبھی میرے لئے اُداس ہونا ' وہ بولی ، ' اب ہم کبھی فون پر نہیں مل سکیں گے '۔ 
اس نے اپنے پرس سے پنک کلر  کا ایک موبائل فون نکالا اور میری طرف بڑھایا ۔  ' یہ لو مون یہ میرا سب سے قیمتی اثاثہ ہے ۔ یہ وہ موبائل ہے جس سے میں تمہیں ایس ایم ایس کرتی رہی ہوں ۔ اس فون میں وہ تمام ایس ایم ایس موجود ہیں جو ہمارے پیار کے گواہ ہیں ۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو میں نے تمہیں بھیجنے کے لئے لکھے تھے مگر بھیج نہ سکی ۔ اس میں تمہیں اپنے تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے ۔ اسے اپنے پاس حفاظت سے رکھنا ، اور کبھی اداس مت ہونا ورنہ میں بہت روں گی  '۔   میں نے بے اختیار موبائل اس کے ہاتھ سے لے لیا اور کہا ، ' ٹھیک ہے سنبل لیکن تم یہ بتاؤ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

' آپ چائے لیں گے یا کافی ' ۔۔۔۔ ' آپ چائے لیں گے یا کافی ؟ ' بس ہوسٹس مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔ ' جی کچھ نہیں ' ، میں چونک کر اُٹھ بیٹھا اور سوالیہ نظروں سے بس ہوسٹس کو دیکھنے لگا ۔ وہ گھبرا کر آگے بڑھ گئ ۔ '  آخر سوتے ہوئے مسافر کو جگا کر چائے پلانے کا کیا تُک تھا ؟ ' میں نے اپنے آپ سے کہا ۔ کھڑکی سے باہر جھانکا ، آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ۔ شاید ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی ۔  میں پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا لیکن نیند میری آنکھوں سے دور ہو چکی تھی ۔  یہ دیکھنے کے لئے کہ میں نے کوئ کال یا میسج مس تو نہیں کیا ، جیب سے اپنا موبائل نکالا ۔ موبائل فون دیکھ کر ایک بار پھر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔۔۔

میرا فون پنک تو نہیں تھا ، بلکہ بلیک تھا اور ، وہ میری دوسری جیب میں تھا ۔

                         X------------x------------X

New Comment